بھٹو کے آخری 323 دن Uswa Eman

Vendor saltis.no
Regular price $ 200.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

بھٹو کے آخری 323 دن Uswa Eman: 323 : 700 : 204 323 323 323

صفحات 188

اور اسے غلام بناتے رہے

حنفی صاحب نے کتاب زیر بحث میں شاعرانہ کلام میں کہا ہے کہ صوفی ازم کا محور محبت ، شفقت اور اجتماعیت ہے جو مختلف عقائد کے لوگوں کیلئے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ صوفی ازم زندگی کی پائیدار روایات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ نہ صرف الفاظ و مفروضوں سے بڑھ کر بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کیلئے بھی ذہانت اور منفرد وضاحت کو پیش کرتا ہے۔

آنکھیں دھندلی سی ہیں

offering profound insights into the human condition

عوام کے سمندر میں اتر کر، عوام سے جڑ کر، عوام کے تضادات کو سمجھ کر، اور ایک منظم انقلابی قوت تعمیر کرکے۔آپ اس سفر میں ہمارا حصہ بننا چاہتے ہیں تو ہمارا نظریاتی دستاویز لازمی ملاحظہ کیجیے۔ اس کی ہارڈ کاپی آپ کو پاکستان میں فکشن ہاوس کی کسی بھی برانچ سے حاصل کرسکتے ہیں۔

اور “Enlightenment” کا نام دیا ہے۔اس بات سے ایک چیز تو واضح ہو جاتی ہے کہ یہ نظریہ انسان کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اور جن کو بھی عرفان نصیب ہوا ہے انہوں نے بھی اس پر انتہائی زور دیا ہے۔ ایک اور بات جو انتہائی قیمتی ہے اور سوچنے سے تعلق رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ اہلِ عرفان کے پاس علم کی جو جھلک نظر آتی ہے ،کسی بھی فلاسفر کے پاس اس علم کا کوئی نشان نظر نہیں آتا ۔ کیونکہ اہلِ عرفان جو بات کرتے ہیں وہ انکا اپنا ذاتی تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن فلاسفر محض دماغ میں ٹامک ٹویاں مارتے نظر آتے ہیں۔ دماغ سے ہم صرف وہی سوچ سکتے ہیں جو پہلے سے ہماری یادداشت کا حصہ ہو۔ دماغ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ انجان اور نامعلوم کے بارے میں سوچ سکے ۔ یہ جتنا بھی نامعلوم علم ہمارے پاس موجود ہے یہ یا تو وحی کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے یا پھر الہام کے ذریعے۔ اور ان دونوں کا دماغ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ تو یہاں پر ایک بات تو صاف ہو جاتی ہے کہ اہلِ عرفان کی اپنی ایک الگ دنیا ہے جس تک ایک عام انسان بنا عرفان حاصل کیے نہیں پہنچ سکتا ۔

Secular ANd Nationalist Jinnah

کئی رنگوں سے مزین موالید ثلاثہ مجسم صورت میں جلوہ گر ہیں جو اپنی جگہ ایک تاریخی کہانی اور رنگ بکھیرتی فکری اساس مہیا کرتی ہے ایسے ہی ایک ارضی جہاں میں آباد انسان نامی مخلوق کے قصوں کی تاریخ قدیم بھی ہے اور تہذیبی و مدنی تبدیلیوں ، عقائد اور نظریات کے مبدل و غیر متبدل صداقتوں سے بھری پڑی ہے۔ افسانه یا ناول اسی ارضی جہاں کے خمیر سے پھوٹنے والی وہ کہانی ہے جو ضمیر کو جھنجوڑ کر جگر کو چھلنی کرتی ہوئی ذہن اور دل پر بے پناہ عکس چھوڑ جاتی ہے جسے ہم کہانی یا افسانہ تو کہتے ہیں مگر وہ سات براعظموں کے لینے والوں کی زندگی کی مسرتوں ، دُکھوں اور پریشانیوں کا جیتا جاگتا قصہ ہوتا ہے، جواب ماضی بن چکا ہوتا ہے، اپنے ارد گرد کے قصوں کو سبک ذہن کے ساتھ فکر کی بھٹی پر چڑھا کر خوب صورت اسلوب کے ساتھ منظر عام پر لانا ذہن زاد کے خالق توصیف بریلوی کا کارنامہ ہے جس میں کئی جہات اور فکری معنویت کے ان گنت باب رقم کیے گئے ۔ ادب اور ادیب کی محبت اور فکر کی لامحدود سلطنت خطوں کو منقسم کرتی سرحدوں کی قید سے آزاد ہے اور یہ محبتیں یونہی بنتی رہیں گی اور ہم ان محبتوں کو خراج پیش کرتے رہیں گے۔ بلاشبہ توصیف بریلوی کی کتاب ”ذہن زاد کا دوسرا ایڈیشن پاکستان میں شائع ہوتا ادب اور ادیب کا گراں قدرا ثاثہ ہے۔

) performed during the first ten days of Muharram

قرآن سنت اور جدید علوم کی روشنی میں ایک منفرد کتاب

تب مَیں نے لائبریوں سے لے کر خاص وہ کتابیں پڑھنا شروع کیں جنھیں تاریِخ اسلام کہا جاتا تھا ۔ یہ سینکڑوں کتابیں تھیں ۔ جیسے جیسے کتابیں پڑھتا چلا گیا ، میرا مطالعہ مجھے بتانے لگا کہ ہر لکھی ہوئی بات سچ نہیں ہے اور ہر بات جھوٹ بھی نہیں ہے ، لہذا مجھ میں روایت اور درایت کو پرکھنے کی قوت پیدا ہونے لگی ۔ ان چیزوں نے مجھے عجیب کیفیت میں مبتلا کر دیا ۔ جو کچھ میری سلیبس کی کتابوں میں لکھا تھا اُن میں سے اکثر تاریخی اعتبار سے بالکل لغو اور اور واہیات معلوم ہوا ۔ تب آہستہ آہستہ مجھے معلوم ہوا کہ لکھنے والوں نے زیادہ تر اپنی نفسانی خواہشات کو مدِ نظر رکھ کر لکھا ہے ۔ تاریخ و سیر و انساب و الرجال کی کتابوں سے لے کر جغرافیہ تک اکثر متضاد باتیں درج ہیں ۔ اور یہ سب کچھ پہلے خلیفہ کے دور سے شروع ہو کر بنی اُمیہ، بنی عباس اور پھر عثمانیوں کے ہزار سالہ دور تک چلتا رہا ۔ بادشاہوں نے اپنے ظلم و تشدد اور جبر کو جائز قرار دینے کے لیے سرکاری مورخین کے ذریعہ اہلِ بیت کے کردار کو بھی داغدار کرنے کی کوشش کی اور سرکاری مفتیوں اور مولویوں کے ذریعے دین کے امرونہی کا چہرہ دھندلا دیا ۔ اِس حالت کو دیکھ کر میری جستجو اور تجسس بڑھتا چلا گیا ۔

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your بھٹو کے آخری 323 دن Uswa Eman orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your بھٹو کے آخری 323 دن Uswa Eman ships.

Need Help?
Questions about بھٹو کے آخری 323 دن Uswa Eman, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for بھٹو کے آخری 323 دن Uswa Eman in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>